ILLEGAL COUNSTRUCTION IN GULSHEN E IQBAL

 گلشن اقبال زون 2 میں جس کے ڈایریکٹر عبدالحمید زرداری صاحب ہیں ان کی موجودگی کے باوجود گلشن اقبال زون 2 میں بے انتہا تیزی کے ساتھ غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے  ایس بی سی اے کے تمام قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جارہی ہے
 جس کے نتیجے میں جہاں حکومت پاکستان کا کروڑوں روپے کا ریوینیو کا نقصان ہورہا ہے وہاں حکومت سندھ اور ایس بی سی اے کو بھی کروڑوں روپوں ک نقصان ہو رہا ہے برائے مہربانی نوٹ کیجیے گا
اس حوالے سے گلشن اقبال زون 2 میں کی جانے والی غیر قانونی تعمیرات کی کچھ مثالیں پیش کی جارہی ہے 


گلشن اقبل ٹاون  زون 2کی حدود میں
پلاٹ نمبر  147  بلاک 3  بہادر یار جنگ سوسائٹی نزد بہاد ر آباد  گراونڈ +2+ غیر قانونی پینٹ ہاوس جس پر غیر قانونی تعمیرات ایس بی سی اے کے راشی افسران کی سرپرستی میں تیزی کے ساتھ جاری ہے  
کی چند تصاویر

گلشن اقبل ٹاون  زون 2کی حدود میں
پلاٹ نمبر  147  بلاک 3  بہادر یار جنگ سوسائٹی نزد بہاد ر آباد  گراونڈ +2+ غیر قانونی پینٹ ہاوس جس پر غیر قانونی تعمیرات ایس بی سی اے کے راشی افسران کی سرپرستی میں تیزی کے ساتھ جاری ہے
ہیں 



گلشن اقبال زون 2 میں جناب عبدالحمید زرداری کے علاقے کی حدود میں ایس بی سی اے کے زمے دار افسروں کا ایک  مزید کارنامہ بھی ملاھظہ کیجے پلاٹ نمبر 547 آدم جی نگر بلاک1  عقب یوسف برگر پرانے اولڈ پر مزید 3 فلور ڈالے جارہے 

















پلاٹ نمبر164-اے کا ٹھیا واڑ کوآپریٹیو ہاوسنگ سوسائٹی  یوسف واڈی والا اسٹرِیٹ پر گراونڈ+2 فلور فلیٹ سائٹ   ایس بی سی اے کے افسران کی زیر نگرانی  تعمیرات کے مراحل کو تیزی کے ساتھ مکمل کیا جارہا ہے  












 گلشن اقبال 13 بی ون میں گیلانی ریلوے اسٹیشن کے نزدیک بلڈنگ پر غیر قانونی ایکسٹرا فلور  ایس بی سی اے کے زون ون کے افسران کی    فنکارانہ مہارت  کی بنیاد پر تکمیل کے مراحل تیزی کے ساتھ مکمل کررہا ہے  

نوٹ
گلشن اقبال زون 2 اورگلشن اقبال زون1  میں کی جانے والی غیر قانونی تعمیرات کی مزید تفصیلات جلد ملاحظہ کیجیے  
زون 2 کے مزید 10 غیرقانونی تعمیرات کی تصاویر اور ان کی تفصیلات بھی ملاحظہ کیجیے گ
جانے والی غیر قانونی تعمیرات
ملاحظہ کیجیے ایس بی سی اے  کراچی کے 
 کے ڈائریکٹران اور ان کے دائیرہ کار کی تفصیلات 


 گلشن اقبال ٹائون اور جمشید ٹائون کراچی ایس بی سی اے   فہرست
    جناب منظور قادر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ کرپشن کے انتہائی خلاف ہیں اور جب بھی ان کے علم میں کسی بھی کرپشن کی اطلاع آتی ہے یا کسی کرپٹ افسر کی اطلاع ملتی ہے تو وہ فوری طور پر  اس کرپشن اور کرپٹ افسر کے خلاف  کارروائی کرتے ہیں  جیسا کہ انہوں نے  گلبرگ کے سابق ڈائریکٹر عمر عادل کے خلاف کارروائی کرکے کیا اور این جی اوز اور اخبارت کی جانب سے بے انتہا شکایات کا سلسلہ جب دراز ہو گیا تو گلبرگ ٹاون  ایس بی سی اے کے تمام  عملے کو ایس بی سی اے  کی تاریخ میں  کرپشن کے خلاف یہ پہلا اقدام

کیا گیا کہ تمام ٹائون کے عملے کا تبادلہ کردیا گیا 
 جب کے بلدیہ ٹائون کے عملے کو گلبرگ ٹاون اور  گلبرگ ٹاون کے عملے کو بلدیہ ٹاون بھیج دیا گیا  
  اس کے نتیجے میں کرپشن کا سلسلہ کسی حد تک موقوف  
 مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب تک گلبرگ ٹاون میں عمر عادل کے دور میں کی جانے والی غیرقانونی تعمرات کا سلسلہ باقائدگی سے جاری ہے اور جن  غیر قانونی منصوبوں کو ڈائریکٹر عمر عادل کے دور میں شروع کیا گیا تھا ان کے خلاف کسی بھی طرح کی کوئی کارروائی اب تک دیکھنے میں نہیں  آئی ہے  حالانکہ عمر عادل کے خلاف کئی سو درخواستِن اس وقت بھی موجود ہیں  
ملاحظہ کیجیے